پٹنہ،27اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہار میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کا ’سیمی فائنل‘ مانے جانے والے ضمنی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف خاندان کو کافی حد تک مسترد کردیا، بلکہ حکمراں اتحاد، اپوزیشن پارٹی کے مہاگٹھ بندھن اور تمام سیاسی جماعتوں کو بھی بہت سے سبق دے گیا۔ریاست کے پانچ اسمبلی حلقہ میں ہوئے ضمنی انتخابات میں ووٹروں نے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں پارلیمنٹ پہنچنے والے تین ممبران پارلیمنٹ کے خاندانوں کو مکمل طور مسترد کرکے کنبہ پروری کے خلاف واضح پیغام سنا دیا۔دیگر بات ہے کہ ساتھ میں سمستی پور لوک سبھا علاقے میں ہوئے ضمنی انتخابات میں ہمدردی کی لہر پر سوار آنجہانی ایم پی رام چندر پاسوان کے بیٹے پرنس راج پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔کشن گنج اسمبلی حلقہ میں کانگریس نے اپنے لوک سبھا رکن محمد جاوید کی ماں سعیدہ بانو کو ٹکٹ دے کر انتخابی میدان میں اتارا تھا، لیکن ووٹروں نے انہیں مکمل طور مسترد کردیا اور انہیں تیسرے مقام پراکتفا کرنا پڑا،یہ سیٹ جاوید کے ایم پی بننے کے بعد ہی خالی ہوئی تھی۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بانکا لوک سبھا سیٹ سے کامیاب جد (یو) کے ایم پی گردھاری یادو کے ایم پی بن جانے کے بعد خالی ہوئی بیلہر اسمبلی سیٹ سے جنتا دل (یو) نے اس ضمنی انتخاب میں ان کے بھائی لال دھاری یادو پر داؤ لگایا لیکن خاندان کی حمایت کرنے والے جنتادل (یو) کے لئے یہاں کنبہ پروری کا داؤخودکے لیے الٹا پڑا گیا۔لال دھاری کو یہاں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔جنتا دل (یو) کی ملکیت والی اس سیٹ پر آر جے ڈی کے امیدوار رام دیو یادو کامیاب ہوئے۔سیوان کی درودا اسمبلی سیٹ پر کویتا سنگھ کے شوہر اور جنتا دل (یو) کے لیڈر اجے سنگھ کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔درودا کی ممبر اسمبلی کویتا سنگھ کے ایم پی بننے کے بعد درودا سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں جنتا دل (یو) کے لیڈر اجے سنگھ کو آزاد امیدوار کرم ویر سنگھ عرف ویاس سنگھ نے شکست دی۔اس ضمنی انتخاب کے نتائج نے جہاں کنبہ پروری کو مسترد کردیا، وہیں دونوں اتحاد کو بھی بہت اشارہ دے گیا۔درودا سیٹ پر بی جے پی کے سیوان ضلع نائب صدر رہے کرم ویر سنگھ کو ٹکٹ نہیں دے ایم پی کے شوہر اجے سنگھ کو ٹکٹ دینا این ڈی اے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔انتخابات سے تین دن پہلے بی جے پی نے کرم ویر کو معطل بھی کر دیا، لیکن ووٹروں نے آزاد امیدوار کو پسند کرکے یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی کہ کام کرنے والے لیڈروں کو پارٹی جب درکنار کرے گی، تب ووٹر اسے سبق بھی سکھا سکتے ہیں۔کشن گنج اسمبلی ضمنی انتخابات میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملا،یہاں بھی ایک کانگریسی لیڈر بغاوت کرکے انتخابی میدان میں اترے اور کانگریس کی ہار کا سبب بنے۔ناتھ نگر میں آر جے ڈی امیدوار کوتقریباََ پانچ ہزار ووٹوں سے شکست سے یہ بھی صاف ہو گیا کہ آر جے ڈی اپنے اتحادیوں کو درکنار کرکے کامیاب ہونے کا منصوبہ نہیں پالے،اگر یہاں مہاگٹھ بندھن مل کر الیکشن لڑی ہوتی اور ہندوستانی عوام مورچہ ساتھ ہوتی تو دونوں کے ووٹوں کے ساتھ پورا کرنے کے بعد نتیجہ کچھ اور ہوتا۔بہر حال اس ضمنی انتخاب کو بھلے ہی اگلے سال ہونے والے انتخابات کا سیمی فائنل ماننے میں کچھ لوگ سے عدم متفق ہوں، لیکن یہ تو سچ ہے کہ یہ ضمنی انتخابات دونوں اتحاد کو سبق دے گیا۔